استفتائات

کیا اس شخص کے لیے حج یا عمرہ کرنا جائز ہے جس پر لوگوں کا قرض ہے ؟

اگر کسی کے پاس حج کے اخراجات کے لیے رقم موجود ہو لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسکے ذمہ لوگوں کا قرض بھی ہو تو یہاں چند صورتیں ہوں گی : اول : اگر حج کے اخراجات کے ساتھ ساتھ قرض واپس کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہے تو اس صورت میں استطاعت کی وجہ سے اس پر حج واجب ہوگا ۔ دوم : اگر حج کے اخراجات کی وجہ سے قرض کی ادائیگی ممکن نہ ہو لیکن قرض کی مدت ابھی باقی ہے یا مدت پوری ہو چکی ہے لیکن قرض دہندہ کو قرض واپس لینے کی جلدی نہیں ہے تو اس صورت میں بغیر کسی اشکال کے اس پر حج واجب ہو گا ۔ سوم : اگر حج کے اخراجات کی وجہ سے قرض کی ادائیگی ممکن نہ ہو جبکہ قرض کی مدت بھی پوری ہو چکی ہے اور قرض دہندہ بھی اپنا قرض واپس لینا چاہتا ہے تو اس صورت میں قرض ادا کرنا واجب ہو گا اور حج کا وجوب ساقط ہو جائے گا ، اسی طرح جائز نہیں ہے کہ قرض کی ادائیگی میں تعلل سے کام لیا جائے البتہ قرض خواہ سے مہلت طلب کرنا جائز ہے ۔




  • مربوطہ استفتائات