استفتائات

آیا لڑکے کا ختنہ کرنا واجب ہے ؟ اور اگر واجب ہے تو اس کی ذمہ داری کس پر ہے ؟

ختنہ واجب ہے اور طوافِ حج و عمرہ کے صحیح ہونے میں شرط ہے لیکن دیگر تمام عبادات جیسے نماز وغیرہ کے صحیح ہونے میں شرط نہیں ہے ۔ اگر مولود چھوٹا ہو تو اس کے ولی پر اس کا ختنہ کرنا واجب ہے ؛ لیکن اگر ختنہ کیے بغیر بالغ ہو جائے تو اس صورت میں اگر ختنہ کرنا کسی بڑے خطرے کا باعث نہ ہو تو خود اس پر اپنا ختنہ کرنا واجب ہے بصورت دیگر کوئی دوسرا اس کا ختنہ کرے ۔ ختنہ میں واجب حد "غلفہ" نامی جلد کو کاٹنا ہے جو "حشفہ" کو چھپا کر رکھتی ہے ، اگر چہ اس حصہ کی تمام جلد کو نہ کاٹا جائے اور تمام حشفہ ظاہر نہ ہو۔




  • مربوطہ استفتائات

  • مرکز کے بارے میں

    امام جواد(علیہ السّلام) فکری و ثقافتی انسٹی ٹیوٹ کو عرصہ دراز سے حضرت آیت اللہ العظمٰی سید کمال حیدری (حفظہ اللہ) کی آفیشل ویب سائیٹ کے امور چلانے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ انسٹی ٹیوٹ ویب سائیٹ کی دیکھ بھال کے علاوہ آپکے تمام تحریری، آڈیو اور ویڈیو آثار کو محفوظ کرنے اور شائع کرنے کا بھی ذمہ دار ہے۔ اس حوالے سے متعدد افراد فعالیت انجام دے رہے ہیں ...

    رابطے کی معلومات

    •  خیابان سمیه ـ کوچه 12 ـ پلاک 359 
    •  00982537834289 - 00982537740180 
    •  8 – 14 بوقت تهران