مقالات و آراء

  • قیام امام حسین (ع) ایک انقلاب تھا یا "اصلاحی تحریک”؟!

  • پہلا حصہ
    آیت اللہ حیدری نے ایشین سیٹلائٹ چینل کے ساتھ ہونے والی اس گفتگو میں قیام امام حسین(ع) کی عمیق تحلیل پیش کرتے ہوئے حسینی شعائر کے بارے میں بحث کی ہے ۔ اس بحث کے اہم مطالب درج ذیل ہیں :
    میزبان : آیا آپ کے نزدیک سیاسیات کی اصطلاح میں رائج لفظ "انقلاب” کو واقعہ عاشورا کے لیے استعمال کرنا درست ہے ؟
    آیت اللہ حیدری
    مارکسی ادب میں انقلاب سے مراد ایسی تحریک ہے جو کسی تبدیلی کی غرض سے طاقت اور اسلحے کے ذریعے تشکیل پاتی ہے اس معنی میں امام حسین (ع) کی تحریک کو انقلاب کا نام نہیں دیا جا سکتا؛ کیونکہ آپ(ع) نے ہرگز اسلحہ استعمال کرنے میں پہل نہیں کی اور خود کو مسلط نہیں کیا بلکہ آپ(ع) نے ان افراد سے جنہوں نے آپ(ع) کو دعوت دی تھی ، فرمایا کہ اگر مجھے چھوڑ دو تو میں کسی دور دراز علاقے کی طرف چلا جاؤں گا۔
    ہمارے نزدیک امام حسین(ع) کی تحریک کو پہلے مرحلے میں ایک اصلاحی تحریک کا نام دیا جانا چاہیے ، جیسا کہ آپ (ع) نے خود صراحت کے ساتھ فرمایا میں امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں ، میں نکلا ہوں تاکہ اپنے جد حضرت محمد (ص) کی امت کی اصلاح کروں۔
    آنحضرت(ع) نے اس وقت اسلحہ استعمال کیا ہے کہ جب آپ(ع) ذلت اور جنگ کے درمیان قرار پائے تو اس وقت آپ نے فرمایا ھیھات منا الذلۃ ، اور جب تک دشمن نے تیر نہیں چلایا آپ(ع) نے بھی تیر چلانے سے اجتناب کیا اور صرف جوابی کاروائی اور دشمن کے جواب میں تیر اندازی کا حکم دیا ۔
    میزبان
    آیا امت اسلامیہ موجودہ حالات میں قیام امام حسین(ع) سے بہرہ مند ہو سکتی ہے ؟ اگر جواب مثبت ہے تو یہ امر کیسے اور کس روش سے ممکن ہے؟
    آیت اللہ حیدری
    ایسی چیز امت اسلامیہ کے لیے بطور کامل ممکن ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ پہلے امام حسین(ع) کے نکلنے اور قیام کا ہدف اور پروگرام واضح ہو جائے اور اس کے بعد جائزہ لیا جائے کہ آیا یہ ہدف اور پروگرام خاص زمان و مکان کے لیے تھا یا یہ کہ ہر زمان و مکان میں قابل اجرا اور عمل ہے ۔ سید الشہداء(ع) کے اصل ہدف اور پروگرام سے آگاہی کی غرض سے آپ(ع) کے کلام کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس میں بھرپور دقت اور غور و فکر کرتے ہیں ۔
    آپ(ع) نے کربلا میں فرمایا :
    "جو بھی کسی سرکش حاکم کو دیکھے جو حرام خدا کو حلال کرتا ہو ، الہی عہد و پیمان کو توڑتا ہو ، سنتِ رسول اللہ(ص) کی مخالفت کرتا ہو ، بندگان خدا کے درمیان گناہ اور ظلم و ستم کے ساتھ حکومت کرتا ہو اور وہ اس کے ساتھ بالکل مقابلہ نہ کرے – نہ قول اور نہ ہی فعل کے ساتھ – تو خدا نے قرار دیا ہے کہ (روز قیامت) اس کو اس ظالم حاکم کے ساتھ ایک جگہ پر محشور کرے”۔
    آپ (ع) نے مزید فرمایا : «الا وَ اِنَّ ھوُلاءِ قَدْ لَزِمُوا طاعَۃ الشَّیْطانِ، وَ تَرَکُوا طاعَۃ الرَّحْمنِ، وَ اَظْھرُوا الْفَسادَ، وَ عَطَّلُوا الْحُدُودَ وَاسْتَاْثَرُوا بِالْفَیءِ، وَ اَحَلُّوا حَرامَ اللّہ، وَ حَرَّمُوا حَلالَ اللّہ، وَ اَنَا اَحَقُّ مَنْ غَیَّرَ» (اے لوگو! یہ گروہ( بنی امیہ) شیطان کی اطاعت کا پابند ہو چکا ہے اور خدا کی پیروی سے روگرداں ہو چکا ہے ، انہوں نے فساد کو آشکار اور الہی حدود کو معطل کر دیا ہے ۔ انہوں نے بیت المال پر اجارہ داری قائم کر رکھی ہے اور حرام خدا کو حلال اور حلال خدا کو حرام کردیا ہے ، میں (فرزند رسول(ص) ہونے کے ناطے) اس حالت کو بدلنے کے لیے قیام کرنے کا زیادہ سزوار ہوں) [تاریخ طبری ، ج۴، ص ۳۰۴]
    اس خطبے کے مطابق ، آنحضرت (ع) کے قیام کا ہدف امت کے بعض اہم امور میں تبدیلی اور اصلاح تھی ، یعنی اگر امت اسلامیہ امام حسین(ع) کی اس تحریک سے اپنی روز مرہ کی زندگی کے لیے درس لینا اور بہرہ مند ہونا چاہتی ہے تو ضروری ہے کہ ہم دیکھیں کہ امام حسین(ع) کس چیز کی اصلاح کرنا چاہتے تھے اور اس وقت آیا وہ مسائل اور مشکلات کہ جن کی اصلاح کے لیے آپ(ع) نے قیام فرمایا تھا؛ موجود ہیں یا نہیں ؟!
    بطور مثال بنی امیہ کی خصلتوں میں سے ایک یہ تھی کہ انہوں نے مسلمانوں کے بیت المال پر اجارہ داری قائم کر رکھی تھی آج دیکھنا چاہئیے کہ آیا موجودہ حکومتیں بنی امیہ کی طرح عمل کر رہی ہیں اور بیت المال میں تصرف کر رہی ہیں یا لوگوں کے بیت المال کی امین ہیں ؟ بنا بر ایں اگر بنی امیہ جیسی کسی حکومت نے مسلمانوں کے بیت المال کو ناحق اپنے ساتھ مخصوص کر رکھا ہو تو اس نقص اور فساد کی اصلاح ہونی چاہئیے ۔
    میزبان
    اب یہ اصلاح اور سعادت کیسے عملی ہو گی ؟
    آیت اللہ حیدری
    امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعے : ” أرید أن آمر بالمعروف و أنھی عن المنکر” یعنی بالکل اس چیز کے ذریعے جسے قرآن کریم نے امت پیغمبر(ص) کی برتری شمار کیا ہے اور اس کے ساتھ ان کا تعارف کرایا ہے : «کنتم خیر أمۃ اخرجت للناس تأمرون بالمعروف و تنھون عن المنكر»؛ [آل عمران/ ۱۱۰]
    تم بہترین امت ہو جو لوگوں (کی اصلاح) کے لیے پیدا کیے گئے ہو تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو۔

    • تاریخ : 2017/12/04
    • صارفین کی تعداد : 17

  • خصوصی ڈیڈیوز

  • مرکز کے بارے میں

    امام جواد(علیہ السّلام) فکری و ثقافتی انسٹی ٹیوٹ کو عرصہ دراز سے حضرت آیت اللہ العظمٰی سید کمال حیدری (حفظہ اللہ) کی آفیشل ویب سائیٹ کے امور چلانے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ انسٹی ٹیوٹ ویب سائیٹ کی دیکھ بھال کے علاوہ آپکے تمام تحریری، آڈیو اور ویڈیو آثار کو محفوظ کرنے اور شائع کرنے کا بھی ذمہ دار ہے۔ اس حوالے سے متعدد افراد فعالیت انجام دے رہے ہیں ...

    رابطے کی معلومات

    •  خیابان سمیه ـ کوچه 12 ـ پلاک 359 
    •  00982537834289 - 00982537740180 
    •  08:00 – 14:00 بوقت تهران