مقالات و آراء

  • حضرت فاطمہ زہراء(ع) کے اسماء گرامی

  • روایات سے متعلق بحث میں گفتگو بہت مفصل ہے اور اس کا بہترین راستہ یہ ہے کہ ہم بی بی (ع) کے اسماء کے ذریعے آپ (ع) کے مقامات کو مشخص کریں۔
    کیوں ؟ کیونکہ شیخ صدوق (رہ) کی کتاب "الخصال” کے باب نمبر ۹ میں روایت نمبر ۳ ہے جس میں فرماتے ہیں کہ :”ان لفاطمۃ تسعۃ أسماء عند اللہ عزّوجل "، فاطمہ کے اللہ کے ہاں نو اسماء ہیں؛ اللہ کے نزدیک نہ یہ کہ آپ نے یہ نام رکھے ہوں ۔
    عن یونس ابن ظبیان : قال قال ابو عبد اللہ : «لفاطمۃ تسعۃ أسماء عند اللہ عزوجل: فاطمۃ، والصديقۃ، والمباركۃ، والطاھرۃ، والزاكيۃ، والرضيۃ، والمرضيۃ، والمحدثۃ، والزھراء»
    فاطمہ کے اللہ کے نزدیک نو اسماء ہیں: فاطمہ، صدیقہ، مبارکہ، طاہرہ، زاکیہ، راضیہ، مرضیہ، محدّثہ اور زہراء۔
    ملا صدرا نے اس اصول پر بہت اچھے انداز سے بحث کی ہے کہ پیغمبروں ، قرآن یا آئمہ کے ناموں کا متعدد ہونا کس معنی میں ہے ۔ انہوں نے کتاب اسفار کی جلد نمبر ۷ میں قرآن پر بات کی ہے ؛ کہتے ہیں کہ کیوں قرآن نے اپنے لیے متعدد اسماء ذکر کیے ہیں؛ ایک مرتبہ کہتا ہے: قرآن ہے ، ایک مرتبہ کہتا ہے: فرقان ہے ، ایک مرتبہ کہتا ہے: نور ہے؛ ایک مرتبہ کہتا ہے: بیان ہے؛ ایک مرتبہ کہتا ہے: تبیان ہے؛ ایک مرتبہ کہتا ہے: ذکر ہے ۔ جناب اس کا کیا معنی ہے ؟
    صادر اول کے بارے میں بھی یہی بحث ہے؛ کبھی کہتے ہیں: عقل ہے ، کبھی کہتے ہیں: نور ہے؛ کبھی کہتے ہیں؛ پانی ہے وغیرہ ، متعدد اسماء ہیں؛ شیعہ سنی روایتوں نے اسے نقل کیا ہے ۔ اول ما خلق القلم ، اول ما خلق الماء ، اول ما خلق نوری، اول ما خلق العقل وغیرہ اس کا معنی کیا ہے ؟!
    کتاب اسفار ، جلد ۷ صفحہ ۵۴ ، وہ فرماتے ہیں :ولا شک أن کثرۃ الاسامی والاوصاف تدلّ علی عظم شأن المسمی والموصوف؛ اس میں شک نہیں (اس قسم کے موارد میں نہ کہ تمام موارد میں) کہ اسماء اور اوصاف کی کثرت مسمّی اور موصوف کی عظمتِ شان پر دلالت کرتی ہے ۔
    خصوصیات اور امتیازات جس قدر زیادہ ہوں گے، ایک لفظ ان تمام خصوصیات کو بیان نہیں کر سکتا۔ ہم مجبور ہیں کہ کیا کریں؟! (اسماء متعدد ذکر کریں) کیوں؟! کیونکہ وہ لفظ ۔۔۔۔ ذرا غور کریں اللہ کے اسماء میں بھی یہی چیز ہے ! آپ کہتے ہیں اللہ کے ہزار اسماء ہیں؛ کیوں ؟ جبکہ وہ خود ایک حقیقت ہے؛ وہ بسیط حقیقت جس میں کسی قسم کی کوئی ترکیب نہیں ہے؛ کیوں ؟ کیوں ؟ کیونکہ یہ بسیط حقیقت تمام کمالات کی جامع ہے؛ آپ مجبور ہیں، جب آپ کہتے ہیں: عالم، تو یہ لفظ عالم قادر کو تو شامل نہیں ہو سکتا پس اس کے لیے ہمیں ایک دوسرا نام رکھنا پڑے گا، اسی طرح دیگر اسمائے ذاتیہ اور فعلیہ ۔ اس لیے عرفاء نے کہا کہ اسم یعنی ذات مع ایک صفت یا ایک تعیّن؛ اسے اسم کہیں گے ۔
    سوال: کیوں ایک اسم یا ایک تعیّن نہیں ہو سکتا؟ جناب! آپ ملاحظہ کریں، ایک حقیقت یا خصوصیت جیسے انسانی نفس کہ جس کے مختلف نام ہیں؛ آپ نفس کہتے ہیں ، روح کہتے ہیں وغیرہ یہ تمام نام ایک خاص وصف پر دلالت کرتے ہیں۔
    ’’وَنَفَخْتُ فِیہ مِن رُّوحِی‘‘۔۔۔۔ یہ حقیقتِ الٰہی جو انسان کے بدن میں آئی ہے اس میں کون سی خصوصیت پائی جاتی ہے ؟
    لہذا ہم نے اپنی کتاب اگر آپ اس کی طرف رجوع کریں ، کتاب "التدابیر النبویۃ” ہم نے وہاں عنوان "صفات فاطمۃ بلسان الغیب و النبوۃ” کے ذیل میں بی بی (ع) کے اسماء ذکر کیے ہیں؛ پہلا: فاطمۃ، دوسرا: الزہراء ، تیسرا: الصدیقۃ الشھیدۃ ، چوتھا:المحدَّثۃ و المحدِّثۃ زبر و زیر کے ساتھ ، پانچواں: المبارکۃ و الکوثر ، چھٹا: الزکیۃ الطاھرۃ ، ساتواں: الراضیۃ و المرضیۃ ؛ الرضیۃ یعنی خود راضی ہیں اور المرضیۃ یعنی خدا آپ(ع) سے راضی ہے ، آٹھواں: البتول ، نواں : ام ابیھا ، دسواں: سیدۃ نساء العالمین اور اسی طرح باقی اسماء ۔۔۔۔
    یہاں صرف ایک یا دو صفحے اور ایک روایت کے ساتھ ذکر کیا ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک کے بارے میں مفصل بحث کی ضرورت ہے اور انشاء اللہ اگر اللہ نے توفیق دی تو میرا ایک کتاب لکھنے کا ارادہ ہے جس میں خود بی بی(ع) کی صفات کو قرآن کے تناظر میں دیکھا جائے گا کہ قرآن نے مثلا "برکت” کے بارے میں کیا کہا ہے اور وہاں (قرآن) میں مفہوم ہے اور یہ اس کے مصداق کا بیان ہے ۔ درست ہے ! اسی طرح طھر اور طہارت کے بارے میں قرآن کریم نے کیا کہا ہے اور اس کا مصداق کہاں ہے ؟
    اور یہ قرآن فہمی اور منطق فہم قرآن کی ایک کلید ہے ۔ کیا ہے ؟ یہ کہ قرآن ایک مفہوم کو ذکر کرتا ہے اور روایت مصداق کو بیان کرتی ہے !
    یعنی کیا ؟ مثلا کہتا ہے کہ اگر گھروں میں داخل ہونا چاہتے ہو تو کہاں سے داخل ہونا چاہیے ؟
    فاتوا البیوت ۔۔۔۔۔ اب یہ ایک کلی عنوان ہے اور ہم گمان کرتے ہیں کہ یہ ایک کلی قضیہ ہے؛ نہیں، ایسا نہیں ہے رسول پاک (ص) فرماتے ہیں : انا مدینۃ العلم ۔۔۔۔ یعنی کہاں سے داخل ہونا چاہیے ؟ علی(ع) اور اولاد علی(ع) کے باب سے ۔۔۔۔ اور یہ بھی خود اہل سنت کی کتابوں میں ہے صرف ہم نہیں کہہ رہے !!

    • تاریخ : 2018/05/23
    • صارفین کی تعداد : 46

  • خصوصی ویڈیوز

  • مرکز کے بارے میں

    امام جواد(علیہ السّلام) فکری و ثقافتی انسٹی ٹیوٹ کو عرصہ دراز سے حضرت آیت اللہ العظمٰی سید کمال حیدری (حفظہ اللہ) کی آفیشل ویب سائیٹ کے امور چلانے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ انسٹی ٹیوٹ ویب سائیٹ کی دیکھ بھال کے علاوہ آپکے تمام تحریری، آڈیو اور ویڈیو آثار کو محفوظ کرنے اور شائع کرنے کا بھی ذمہ دار ہے۔ اس حوالے سے متعدد افراد فعالیت انجام دے رہے ہیں ...

    رابطے کی معلومات

    •  خیابان سمیه ـ کوچه 12 ـ پلاک 359 
    •  00982537834289 - 00982537740180 
    •  08:00 – 14:00 بوقت تهران