مقالات و آراء

  • تبرّا اور لعنت کا باہمی تعلق

  • تبرّا اور لعنت دو مترادف چیزیں نہیں بلکہ ان دونوں کا تعلق مفہوم اور مصداق والا ہے یعنی لعنت، تبرّا کے اظہار کا نمایاں ترین نمونہ ہے ہمارے نزدیک یہ امر بلا تردید ہے کہ یہ مصداق شدت سے دو عناصر یعنی زمان اور مکان کا اثر قبول کرتا ہے یہ چیز تبرّا کے مفہوم کے برخلاف ہے جو بہر صورت ایک ثابت امر ( ماورائے زمان و مکان ) ہے اگرچہ اسکے مصداق ہمیشہ تغیّر و تبدّل کا شکار رہتے ہیں تبرّا کے متعدد مصادیق میں سے ایک مصداق ہونے کے عنوان سے لعنت ، بعض اوقات درست و قابل قبول اور بعض اوقات نادرست اور ممنوع ہے تاہم ( جیسا کی اشارہ کیا گیا) تبرّا  کا عنوان اور مفہوم ہمیشہ ثابت اور مطلوب رہے گا ۔

    لعنت بھیجنا ، خصوصا کسی کا نام لیکر لعنت کرنا زمانے کے تقاضوں کے ساتھ مشروط ہے ایسے حالات میں کہ جب لعنت کرنا تفرقہ کا باعث اور امت اسلامی کو کمزور کرنے کا موجب ہو ، ایسی صورت میں لعنت کرنا نہ صرف مطلوب نہیں بلکہ ممنوع ہے کیونکہ قرآن مجید نے ایک اہم اصول کے طور پر مسلمانوں سے انکی باہمی وحدت اور اتحاد کا مطالبہ کیا ہے «وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمیعاً وَ لا تَفَرَّقُوا»؛ آل عمران/ ۱۰۳

    جو چیز مطلوب ہے وہ مفہوم تبرّا کو زندہ اور باقی رکھنا ہے نہ کہ اسکے متعدد مصادیق میں سے ایک خاص مصداق کو، کیونکہ تبرّا میں یہ صلاحیت ہے کہ خود کو( مختلف زمانی اور مکانی شرائط کے تحت ) ، متنوع  اور متعدد مصادیق میں ظاہر کرے ۔

    لعنت اس صورت میں حرام ہے جب کسی فساد کا احتمال ہو اور اگر کسی فساد میں پڑنے کا قوی گمان یا یقین ہو تو لعنت بدرجہ اولی حرام ہے ۔

    اس بات پر توجہ ضروری ہے کہ لعنت کی ممانعت اصول تقیہ( اور حکم ثانوی) پر اعتماد کرتے ہوئے نہیں بلکہ یہ ہمارے نزدیک اس عام قانون کی بنیاد پر ہے کہ جو زمانی و مکانی حالات کے تابع ہے لعنت کسی زمان و مکان میں جائز اور کسی دوسرے زمان و مکان میں بطور مطلق ناجائز ہے  لہذا کسی خاص زمانے میں اس کا جائز ہونا ہر زمانے میں اسکے جائز ہونے کے معنی میں نہیں ہے !

    اس رو سے تبرّا کے جواز کی اپنے تمام مصادیق پر تعمیم و تطبیق زمانی و مکانی تقاضوں اور حالات کا خیال رکھے بغیر صحیح نہیں ہے ۔

    • تاریخ : 2018/06/13
    • صارفین کی تعداد : 116

  • خصوصی ویڈیوز