مقالات و آراء

  • ’’معرفت اللہ‘‘ کے عنوان سے سلسلہ وار مباحث(10)

  • فقط نہج البلاغہ میں توحید کے بارے میں پچاس خطبے ہیں۔  آپ ابھی آئمہ اہل بیتؑ  کے کلمات کو پیش نظر نہ رکھیں، ان میں سے ننانوے فیصد اہم ترین عقلی موازین کے ساتھ قابل اثبات ہیں ۔ننانوے فیصد آپ کیوں کہہ رہے ہیں؟! سو فیصد کیوں نہیں کہتے؟!  کیونکہ ممکن ہے کہ بعض اوقات ایک جملہ اس طرف سے یا اس طرف سے نقل بہ معنی ہوا ہو یا دقت کے ساتھ نقل نہ ہوا ہو تو اس سے مسئلہ پیدا ہو گیا ہو، ورنہ یہ ننانوے فیصد (خطبات) قرآنی شواہد کے موافق ہیں ۔لیکن اس پر کام نہیں کیا گیا۔

    امام ؑ فرماتے ہیں: (كل قائم في سواه فهو معلول) کیوں؟! اگر کوئی چیز معنی حرفی ہو گئی تو معلول ہو جائے گی،کس بنیاد پر؟! ان دعووں کے برخلاف؛ کہ جناب علت و معلول کی بحثیں وغیرہ یہ سب ارسطو کی تھیں اور بعد میں وارد ہوئی ہیں نہیں! یہ خطبے فلسفہ یونانی کا ترجمہ ہونے سے پہلے کے ہیں اور امیر المومنینؑ کے کلام میں علت و معلول موجود ہے پس دیکھیں! ہمیں چاہئیے کہ اس اصل پر کام کریں۔

    لہٰذا ہم نے کتاب توحید کی جلد اوّل کو یہاں سے شروع کیا ہے( مفتاح جميع مفاتيح المعارف معرفة الله)؛یہ کہاں پر ہے؟ نفی حد کے مسئلہ میں (قال: و من عده فقد ابطل ازله و من قال كيف فقد استوصف) اب آپ دیکھیں! اس اصل کی دلیل کیا ہے؟ امام رضا ؑ ایک قاعدہ تاسیس فرما رہے ہیں؛ انشاء اللہ آپ صاحبان آج رات یا اس ہفتے میں اس کا مطالعہ کریں گے  تاکہ ہم اگلے ہفتے اس پر بحث کر سکیں۔ اسی کتاب توحید شیخ صدوق کے صفحہ ۴۱ میں؛  امام ؑ یہ فرماتے ہیں:( فكل ما فی الخلق لا يوجد في خالقه )جو چیز بھی آپ مخلوق میں دیکھ رہے ہیں وہ اس کے خالق میں نہیں ہے ۔

    پس اس بنیاد پر ہر مخلوق محدود ہے  پس خدا محدود نہیں ہو سکتا  کیونکہ اگر محدود ہو تو اس قاعدے کے منافی ہے جو امام ؑ تاسیس فرما رہے ہیں اور یہ قاعدہ بھی عقلی و قرآنی ہے: ( فكل ما في الخلق لا يوجد في خالقه؛ و كل ما يمكن فيه  يمتنع من صانعه)، پس جو کچھ بھی مخلوق میں ہے خالق میں نہیں پائی جاتی ؛ جو چیز بھی  اس میں ممکن ہے وہ اللہ میں ممتنع ہے۔ پھر امام ؑ مصادیق کو ذکر فرما رہے ہیں؛ آپ یہاں پر حرکت و سکون کو دیکھ رہے ہیں؛ پس وہاں کیا؟ یہاں پر حد کو دیکھ رہے ہیں؛ تو وہاں کیا؟ وعلی ھذا القیاس،  اگر ہم اس اصل کی بنیاد رکھ سکے؛ اس وقت ہمیں پتہ چلے گا کہ ( ليس كمثله شيئ)؛ کا کیا معنی ہے؟  (قال: و كيف يجري عليه ما هو اجراه علی غیره) خدا نے حد کا موجودات پر اجرا کیا ہے؛ (فكيف يجري عليه ما اجراه علی خلقه )اس حد کو اس نے خود موجودات اور مخلوقات پر جاری کیا ہے  پس یہ قانونِ حد کیسے اس پر جاری ہو گا؟

    پس دیکھئے! کہ اہل سنت کیا کہتے ہیں؟ اور علمائے شیعہ کیا کہتے ہیں ؟ اور در نتیجہ ہم نفی حد کے ساتھ کیا نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں؟  جو لوگ نفی حد کے قائل ہوئے ہیں؛ آخر وہ کیوں اس کے قائل ہوئے ہیں؟ کہتے ہیں: جناب! اگر ہم حد کے قائل نہ ہوں تو خالق اور مخلوق کے مابین بینونت(جدائی) حاصل نہیں ہو گی یا حلول ہو جائے گا یا اتحاد ہو جائے گا۔پس ضروری ہوا کہ ہم خدا کیلئے ایک ایسی حد کے قائل ہوں جو تمام ہو جاتی ہو  اور پھر وہاں سے ممکن کی ابتدا ہو ورنہ اگر اس کی حد نہ ہو تو کیا پھر میں ہوں یا نہیں ہوں؟ اگر ہوں  تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ ذاتِ خدا میں ہوں اور اگر نہیں ہوں تو پھر انکار مخلوقات ہو جائے گا۔

    پس ہمارے پاس اس قول: بائن عن خلقه و خلقه بائن عنه (وہ اپنی مخلوق سے جدا ہے اور اس کی مخلوق اس سے جدا ہے )کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے اور اس بینونت کو صرف حد کی بنیاد پر ثابت کیا جا سکتا ہے۔ پس یہ اس کی دلیل ہے؛ آپ خیال نہ کریں کہ اتنا ہی آسان ہے کہ آپ کہیں گے: جناب! حد نہیں ہے تو وہ کہے گا: ہمیں قبول ہے نہیں! ایسا نہیں ہے۔ وہ کہے گا : جناب! اگر آپ حد نہ ہونے کے قائل ہیں تو کیا لازم آئے گا؟ اس پر توجہ کریں  اگر ہم اسے محدود فرض کریں تو کیا دوسرے کے پیدا ہونے کا امکان ہو  گا؟ جی ہاں! کیونکہ یہ موجود یہاں پر ختم ہو گیا تو دوسرا شروع ہو گیا۔ اگر فرض کریں کہ یہ موجود غیر متناہی ہے اور اس کی کوئی حد نہیں ہے تو پھر دوسرے کا فرض نہیں ہو سکتا  کیونکہ وہی تمام نہیں ہو رہا کہ دوسرا شروع ہو سکے اصلا اس کیلئے جگہ ہی نہیں ہے ۔

    پس اگر غیر متناہی ہونے کی صورت میں دوسرے کے وجود کو بھی فرض کر لیا تو ماننا پڑے گا کہ یا پہلا محدود ہے یا یہ کہ دوسرا  اس کی ذات میں ہے۔ لہذا آپ دیکھتے ہیں کہ عرفا وحدت الوجود کے قائل ہو گئے؛ اس کا راز یہی ہے انہوں نے دیکھا کہ یا ہم مخلوق کو فدا کریں یا حد خداوندی کو؟ انہوں نے کہا: نہیں!اس کی لا محدودیت اپنے مقام پر باقی رہے۔ جو مصیبت بھی نازل ہو؛ مخلوق پر نازل ہو اصلا کوئی چیز بھی نہ ہو؛ اصلا” لا” ہو جائے لیکن وہ رہے!  دیکھیں: ایک مسئلہ  درپیش ہوا کہ جس کی وجہ سے ان کی بحث یہاں تک جا پہنچی ۔

    ملا صدرا آئے انہوں نے ایک اور کام کیا کہ ذات خدا کیلئے ایک "معنی اسمی” ترتیب دیا  اور باقی مخلوقات کیلئے "معنی حرفی”کے قائل ہو گئے یعنی مخلوقات کا وجود (اس کے وجود) کی بدولت قائم ہے پس ہم نے خدا کو بھی بچا لیا اور مخلوق کو بھی کیونکہ ملا صدرا کا اصرار ہے کہ ممکن کی ذات نہیں ہے ۔ معنی حرفی کا مطلب ہے کہ ممکن کی ذات نہیں ہے۔ وہ مخلوق کی ذات کا انکار کرنے پر اس لیے مصر  ہے تاکہ خدا کا کوئی دوسرا نہ بن پائے کیونکہ اگر دو ذاتیں قرار دیں تو محدودیت لازم آئے گی ۔ پس ذات ایک ہی ہے ۔ملا صدرا نے دیکھا کہ براہین عقلی و نقلی و قرآنی سب کے مطابق خدا محدود نہیں ہے۔ آپ کہیں گے کہ آپ قرآن سے کیسے سمجھے؟ !آپ یہ توقع نہ رکھیں کہ قرآن کریم آپ کی اصطلاحات کے مطابق گفتگو کرے کیونکہ قرآن کی اپنی اصطلاحات ہیں۔  خداوند متعال آپ کےکلامی مبانی کے مطابق بات نہیں کرتا۔ اس کی اپنی اصطلاحات ہیں ضروری ہے کہ آپ قرآنی اصطلاحات کو (درک کریں) لہذا ہم نے "منطق فھم القرآن” میں بیان کیا ہے: ان للقرآن لغة خاصة به (قرآن کریم کی ایک خاص لغت ہے )ضروری ہے کہ قرآن کی لغت کو سمجھیں ۔ولا يكفي لمن فهم العربية ان يفهم القرآن(ضروری نہیں ہے کہ عربی سمجھنے والا قرآن کو بھی سمجھ پائے) کیونکہ قرآن کی اپنی لغت اور اپنی اصطلاحات ہیں۔

    • تاریخ : 2018/08/29
    • صارفین کی تعداد : 36

  • خصوصی ویڈیوز

  • مرکز کے بارے میں

    امام جواد(علیہ السّلام) فکری و ثقافتی انسٹی ٹیوٹ کو عرصہ دراز سے حضرت آیت اللہ العظمٰی سید کمال حیدری (حفظہ اللہ) کی آفیشل ویب سائیٹ کے امور چلانے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ انسٹی ٹیوٹ ویب سائیٹ کی دیکھ بھال کے علاوہ آپکے تمام تحریری، آڈیو اور ویڈیو آثار کو محفوظ کرنے اور شائع کرنے کا بھی ذمہ دار ہے۔ اس حوالے سے متعدد افراد فعالیت انجام دے رہے ہیں ...

    رابطے کی معلومات

    •  خیابان سمیه ـ کوچه 12 ـ پلاک 359 
    •  00982537834289 - 00982537740180 
    •  08:00 – 14:00 بوقت تهران