مقالات و آراء

  • پیغمبر اسلام (ص) اور اہل بیت (ع) علم و کمال کے اعلی ترین مراتب پر فائز ہیں

  • ہم نے عرض کيا کہ انسان کے مسلمان اور مومن بننےکے ليے کافى ہے کہ وہ ذاتِ پيغمبر(ص) کى شناخت حاصل کرے ،آپ(ص) کى نبوت کى تصديق کرے اور آپ(ص) کو آپ(ص) کى رسالت ميں سچا مانے يہ اسلام اور ايمان ميں داخل ہونے کى بنياد ہے ليکن يہ کہ رسول اعظم(ص) کے ديگر مراتب جيسے عصمت ، افضليتِ مطلق اوروساطتِ فيض وغيرہ کا بھى اقرار کرے يہ کمالِ ايمان کا حصہ ہے نہ کہ اصل ايمان کا ؛ ہماراسارا دعوى يہ ہے ليکن نہايت افسوس کے ساتھ ، صراحتًا کہتا ہوں بعض افراد جو ہمارى گفتگو اور باتوں ميں تدبر اور غور و فکر نہيں کرتے خيال کرتے ہيں کہ ہم پيغمبر اور آئمہ(ع) کى عصمت کے منکر ہيں۔ ہم مقام اثبات اور عالَمِ خارج کى بات کر رہے ہيں اور يہ کہ کون سى چيز انسان کو اسلام اورايمان ميں داخل کرتى ہے اور کون سى خارج کرتى ہے اور کون سى چيز انسان کو مکتب اہل بيت(ع) ميں داخل کرتى ہے اور کون سىی خارج کرتى ہے ليکن ذاتى عقيدے کى سطح پر ہم کيا کہتے ہيں ، ہم نے کئى مرتبہ کہا ہے اور مکرّر کہا ہے اور پھر بھى تاکيد کرتے ہيں کہ ہم پيغمبر(ص) اور اہل بيت(ع) کو اللہ کے فيض کا واسطہ سمجھتے ہيں وہ نہ صرف يہ کہ معصوم ہيں بلکہ پيغمبر(ص)اور آئمہ(عليھم السّلام) عصمت کے اعلى ترين درجوں پر فائز ہيں اور علم و کمال کے اعلى ترين درجات؛ پيغمبر(ص) ،آپ(ص) کے اہل بيت(ع) اور سيدۃ نساء العالمين (ع) کے پاس ہيں۔

     ليکن کيا ميں اپنے عقيدے کہ جس کى ميرے پاس دليل ہے؛ کو بنياد بنا کر دوسروں پر الزام تراشى کر سکتا ہوں؟ اور کہہ سکتا ہوں : اگر تمہارا وہ عقيدہ نہيں ہے جو ميرا ہے تو تم دين و مذہب سے خارج ہو  يا يہ کہ مجھے اسکا حق نہيں ہے۔ ميں "انسان کامل” کے عرفانى نظريے کا عقيدہ رکھتا ہوں اور اس سے متعلق بحث انشاء اللہ عنقريب دوجلدوں پر مشتمل کتاب "شرح تمہيد القواعد” ميں شائع ہوگى وہاں پر ميں نے انسانِ کامل کے نظريے اور اس کے مصاديق کو بيان کيا ہے کہ ہمارے زمانے ميں پيغمبر(ص) ، آئمہ(ع) اور حضرت زہرا(ع) سيدة نساء العالمين اس کے مصداق ہيں ليکن اگر کوئى ميرے والا عقيدہ نہ رکھتا ہو (کہ يہ ہستياں فيضِ الٰہى کا واسطہ ہيں) تو کيا وہ مسلمان ہے يا نہيں؟ مومن ہے يا نہيں؟ ہاں وہ مسلمان اور مومن ہے! کيونکہ یہ کمالِ ايمان سے ہے نہ کہ اصل ايمان، اسلام اور تشيّع ۔ لہذا ميرا تمام تر ہمّ و غم اس چيز پر ہےکہ آئمہ اہل بيت(ع) کے پرچم کو کس طرح عام کيا جائے؟ نہ يہ کہ کيسے ان کے پرچم کو محدود کرديں جو کچھ اس وقت شيعہ فکر و ثقافت کے طور پر پيش کيا جا رہا ہے، آيا اسسے اہل بيت (ع) کا پرچم اور دائرہ وسيع ہو گا يا محدود ؟ روز بروز اس دائرے کو محدود کيا جا رہا ہے جو بھى ہمارے ساتھ نہيں ہے، وہ کيا ہے؟ کاش کہ يہ کہہ ديتا کہ جو بھى ميرے ساتھ نہيں ہے! بلکہ کہتا ہے کہ جو بھى ميرے ساتھ، ميرى فکر کيساتھ اور ميرے مرجع کے ساتھ نہيں ہے؛ وہ دين و مذہب سے خارجہے۔ اس بات کى کوئى دليل نہيں ہے يہ موضوع بھى پہلى صديوں ميں واضحات ميں سے تھا اور ہمارے علما کى باتيں واضح اور آشکار تھيں کہ تشيّع ،اسلام اور حقيقى ايمان کى کم از کم حد وہى ہے جس کى جانب ہم نے اشارہ کيا ہے

    • تاریخ : 2018/12/15
    • صارفین کی تعداد : 95

  • خصوصی ویڈیوز