مقالات و آراء

  • سائنس اور دین کا ٹکراؤ (2)

  • یہاں پر عزیزو ایک نکتہ ہے کہ جس کی طرف اس وادی کے بعض ماہرین نے اشارہ کیا ہے؛

    یہ کتاب انتہائی مفید کتاب ہے، جو عزیز مطالعہ کرنا چاہیں وہ اس کتاب "بین الدین والعلم؛ قرون وسطیٰ میں ان دونوں کے مابین ٹکراؤ کی تاریخ؛ علم فلکیات، علم جغرافیہ اور نظریہ ارتقا کے حوالے سے” کی طرف مراجعہ کریں ، تالیف: "اندرو دیکسون وایت”، ترجمہ: "اسماعیل مُظھر” کہ جنہوں نے کتاب ’’اصل الانواع‘‘ کا بھی ترجمہ کیا ہے جس کتاب کو ہم زیر بحث لا چکے ہیں۔

    کتاب کے مقدمے میں ذکر کرتے ہیں؛ یہ نکتہ اہم ہے؛ ضروری ہے کہ اس کا جائزہ لیا جائے ، وہ کہتے ہیں : یہ ٹکراؤ جو ان دونوں کے مابین رہا ہے؛ اس کی تاریخ بچیس صدیوں پر محیط ہے۔

    یہ مقدار تو مدون ہے ورنہ اس سے پہلے بھی یہ تنازعہ موجود تھا، ان دونوں کا باہمی تصادم ختم نہ ہو پایا اور ان میں سے ایک دوسرے کو ناک آؤٹ نہیں کر سکا؛ نہ سائنس دین کو انسانی زندگی سے نکال باہر کر سکی اور نہ ہی دین سائنس کو انسانی زندگی سے محو کر سکا۔

    یہ کیا معمہ ہے؟!

    یہ ٹکراؤ ایک دو دن کا نہیں ہے؛ یہ پچیس تیس صدیوں سے زیادہ پر محیط ہے بلکہ الٹا روزبروز سائنسی مباحث آگے بڑھ رہی ہیں دلچسپی، ارتقا اور ترقی کے اعتبار سے اور دینی مباحث بھی آگے بڑھ رہے ہیں بشر کی حیات میں رسوخ کے اعتبار سے۔ حالانکہ ان دونوں کے مابین ٹکراؤ ہے!

    فرض یہ ہے کہ جب ٹکراؤ ہو تو ان میں سے ایک دوسرے پر غلبہ پا لے اسی لیے کتاب کے مقدمے میں "اسماعیل مُظھر” کی یہ عبارت ہے؛ کہتے ہیں: سائنس ہر زمانے سے کہیں زیادہ ترقی کر رہی ہے کہ اس سے دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے۔

    اور روح دین؛ نہ سطحی دین ، نہ کہ فروعات؛ فروعات مراد نہیں ہیں۔ روح دین قائم ہے اور اس کے قواعد راسخ ہیں، یہ پچھلے زمانوں میں کبھی بھی انسانوں کے اندر اس قدر ثابت و محکم نہیں تھے کہ جتنا عصر حاضر میں ہیں۔

    جی ہاں! ایسا ہی ہے؛ دین کی طرف احتیاج ایک ثابت احتیاج ہے، اس میں تغیر نہیں ہے ۔ مگر آپ کے ذہن میں یہ خیال پیدا نہ ہو کہ دین کی ایک تشریح ہے بلکہ ہر عصر میں اپنی ایک تشریح ہے۔

    خود دین کی احتیاج ایک مسلمہ امر ہے؛ یعنی ’’کان تامہ‘‘ ثابت ہے تاہم ’’کان ناقصہ‘‘ دین کی تشریح، دین کا فہم؛ یہ ہر زمانے میں بدلتے رہتے ہیں۔

    اسی بات کو ہم نے’’تجدید افکار دین‘‘ کی مباحث میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔

    • تاریخ : 2019/01/26
    • صارفین کی تعداد : 75

  • خصوصی ویڈیوز